میں ایک عام سی طالبہ ہوں. نہ کبھی پہلی پوزیشن حاصل کی اور نہ ہی دوسری۔ مجھے اکثر صرف پاسنگ مارکس ہی ملے۔ لیکن یہ میری پہچان نہیں ہے اور نہ ہی یہ میری سوچ کو محدود کرتی ہے۔ بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ مجھے ایسا تعلیمی ماحول ملے جہاں اساتذہ صحیح رہنمائی کریں اور تعلیم صرف رٹنے تک محدود نہ ہو بلکہ سمجھ اور اصل علم پر مبنی ہو۔ افسوس کہ مجھے ایسا ماحول مکمل طور پر کبھی میسر نہ آ سکا۔
اس کے باوجود میری سوچ ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اگر انسان اوسط درجے کا بھی ہو تو اسے محنت کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ میرا مقصد صرف پوزیشن حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسا علم حاصل کرنا ہے جو میں آنے والی نسل تک پہنچا سکوں تاکہ وہ ان مشکلات کا سامنا نہ کریں جن کا سامنا مجھے کرنا پڑا۔
اپنی تعلیمی زندگی میں میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ کچھ طلبہ نقل کے ذریعے اعلیٰ پوزیشن حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ان کے پاس حقیقی علم اور سمجھ نہیں ہوتی۔ یہ عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ تعلیم کے اصل مقصد کے بھی خلاف ہے۔ حقیقی کامیابی ان ہی لوگوں کا حق ہے جو محنت اور سچائی کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں، کئی جگہوں پر میرٹ کے بجائے تعلقات اور سفارشات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ صورتحال محنتی اور دیانتدار طلبہ کے لیے مایوسی کا سبب بنتی ہے اور ان کی محنت کو کمزور کرتی ہے۔
میری بات کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ نقل کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ رٹا سسٹم کی بجائے طلبہ کو سمجھ، تجزیہ اور سوچنے کی صلاحیت سکھائی جانی چاہیے۔ تعلیم صرف یاد کرنے کا عمل نہیں بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کو اخلاقی اور دینی تربیت کے ساتھ جوڑنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کو کم عمری سے ہی ذمہ داری، ادب اور اچھے کردار کی تربیت دی جانی چاہیے۔ اسلام میں استاد کو والدین جیسا مقام دیا گیا ہے کیونکہ وہ صرف علم ہی نہیں دیتے بلکہ شخصیت بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ اور والدین دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی صحیح رہنمائی کریں.
اگر ہم علم کے ساتھ عمل، اخلاق اور مقصد کو جوڑ دیں تو ہم ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو صرف پڑھی لکھی ہی نہیں بلکہ سمجھدار، ذمہ دار اور مضبوط کردار کی حامل ہو۔
لیکن یہ ذمہ داری صرف تعلیمی اداروں کی نہیں ہے۔ والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ اکثر والدین صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ دوسروں سے آگے نکلے یا اچھی پوزیشن حاصل کرے، جبکہ وہ اصل تعلیم کی روح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
تعلیم دراصل انسان کو سوچنے، سمجھنے، اخلاق اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ جب تعلیم کو اسلام اور دینی اقدار کے دائرے میں رہ کر حاصل کیا جائے تو یہ اپنے اصل مقصد کو حاصل کرتی ہے۔
آخر میں، تعلیم کو صرف نمبروں یا پوزیشن تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک سفر ہے جو علم، کردار اور شخصیت کی بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔ صرف اسی طرح ہم ایک بہتر اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
Thank you so much for giving me this opportunity thanks to this community and especially to Sir Faizaullah Sikandri 🙏🏻💫.